غزل
درد منت کشِ دوا نہ ہوا
درد منت کشِ دوا نہ ہوا
یہ غزل عاشق کے گہرے اور ناقابلِ تسکین درد کو بیان کرتی ہے، جو کسی علاج سے ٹھیک نہیں ہوتا اور بدستور قائم رہتا ہے۔ محبوب کے افعال کے باوجود، عاشق کوئی شکوہ نہیں کرتا اور اپنے مقدر کو صبر سے قبول کرتا ہے۔ اشعار مایوسی کے احساس کا اظہار کرتے ہیں، یہ سوال کرتے ہوئے کہ قسمت آزمانے کہاں جائیں جب محبوب کی فیصلہ کن کارروائی بھی نہیں ہوتی، بالآخر محبوب کی اس زبردست کشش کو اجاگر کرتے ہیں جو گالیوں کو بھی بے اثر کر دیتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
दर्द मिन्नत-कश-ए-दवा न हुआ
मैं न अच्छा हुआ बुरा न हुआ
میرا درد دوا کا محتاج نہ ہوا۔ میں نہ تو بہتر ہوا اور نہ ہی بدتر ہوا۔
2
जम्अ' करते हो क्यूँ रक़ीबों को
इक तमाशा हुआ गिला न हुआ
آپ حریفوں کو کیوں جمع کرتے ہیں؟ یہ ایک تماشا بن گیا، اور کوئی شکایت نہیں کی گئی۔
3
हम कहाँ क़िस्मत आज़माने जाएँ
तू ही जब ख़ंजर-आज़मा न हुआ
میں اپنی قسمت آزمانے کہاں جاؤں، جب تم خود خنجر آزمانے والے نہیں بنے۔
4
कितने शीरीं हैं तेरे लब कि रक़ीब
गालियाँ खा के बे-मज़ा न हुआ
تمہارے ہونٹ اتنے شیریں ہیں کہ رقیب گالیاں کھا کر بھی بے مزہ نہیں ہوا۔
5
है ख़बर गर्म उन के आने की
आज ही घर में बोरिया न हुआ
ان کے آنے کی خبر بہت گرم ہے، اور آج ہی گھر میں بوریا بھی موجود نہیں۔
6
क्या वो नमरूद की ख़ुदाई थी
बंदगी में मिरा भला न हुआ
کیا وہ نمرود کی خدائی تھی، کہ میری بندگی میں میرا کوئی بھلا نہیں ہوا؟
7
जान दी दी हुई उसी की थी
हक़ तो यूँ है कि हक़ अदा न हुआ
جو جان میں نے دی، وہ اُسی (خدا) کی دی ہوئی تھی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اُس کا حق ادا نہیں ہو سکا۔
8
ज़ख़्म गर दब गया लहू न थमा
काम गर रुक गया रवा न हुआ
اگر زخم دَب گیا تو خون نہ تھما۔ اگر کام رک گیا تو وہ آگے نہ بڑھا۔
9
रहज़नी है कि दिल-सितानी है
ले के दिल दिल-सिताँ रवाना हुआ
یہ راہزنی ہے یا دل چرانا ہے؟ دل چرانے والا میرا دل لے کر چلا گیا ہے۔
10
कुछ तो पढ़िए कि लोग कहते हैं
आज 'ग़ालिब' ग़ज़ल-सरा न हुआ
کچھ تو پڑھئیے کہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ آج غالب نے کوئی غزل نہیں سنائی۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
