शोख़ी-ए-इज़्हार को जुज़ वहशत-ए-मजनूँ 'असद'
बस-कि लैला-ए-सुख़न महमिल-नशीन-ए-राज़ है
“Asad, what is expression's boldness, save Majnun's wild despair?For Layla of my verse resides, a secret in her palanquin there.”
— مرزا غالب
معنی
اسد، اظہار کی شوخی مجنوں کی وحشت (دیوانگی) کے سوا کچھ نہیں ہے، کیونکہ سخن کی لیلیٰ راز کے محمل میں بیٹھی ہے۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
← Prev9 / 9
