“Through lamentation, gather what your heart's bondage brings,For the house of chains is known for naught but echoing things.”
نالوں سے دل کی قید کا نتیجہ جمع کر۔ زنجیر کے گھر کا سامان آواز کے سوا کچھ معلوم نہیں ہوتا۔
اس شعر میں غالبؔ کہتے ہیں کہ اپنے دل کی الجھنوں، اپنی محبت اور رشتوں سے جو کچھ بھی تم نے حاصل کیا ہے، اسے آہ و زاری کے ذریعے ایک جگہ جمع کر لو۔ لیکن پھر وہ ایک گہرا سوال پوچھتے ہیں کہ تمہارے اس 'زنجیر کے گھر' میں، یعنی زندگی کی ان بندشوں میں، تمہارے پاس آخر ہے کیا؟ جواب میں وہ کہتے ہیں کہ اس قید خانے میں تمہیں صرف اپنی آواز کی گونج ہی ملے گی، اور کچھ نہیں۔ یہ ایک بہت خوبصورت طریقہ ہے یہ بتانے کا کہ دنیاوی الجھنوں میں پھنس کر ہم اکثر اپنی زندگی میں خالی پن کے سوا کچھ نہیں پاتے۔
آڈیو
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
