“The doors of joy opened, O mind! The entire house was drenched, The new blue sky was drenched.”
اے من! آنند کے دروازے کھل گئے، سارا گھر بھیگ گیا اور نیا نیلامبر بھی بھیگ گیا۔
یہ شعر خوشی کی ایک ایسی زبردست لہر کو بیان کرتا ہے جو روح کو سرشار کر دے۔ یوں لگتا ہے جیسے مسرت کے دروازے کھل گئے ہوں اور یہ خوشی صرف دل کو نہیں بھرتی، بلکہ پورے وجود کو بھگو دیتی ہے، بالکل جیسے بارش پورے گھر کو تر کر دیتی ہے۔ اس اندرونی سُرور کی تاثیر اتنی گہری ہے کہ یہ دنیا کو دیکھنے کے آپ کے نقطہ نظر تک پھیل جاتی ہے، اور ایک نیا، وسیع نیلا آسمان بھی اس حیرت انگیز اور تازگی بخش خوشی میں پوری طرح ڈوبا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
