“That, to the beautiful one, you give secretly; The hand-print written by my hand, O clever painter, I implore you.”
اے چتر مصور، میں تم سے التجا کرتا ہوں کہ میرے ہاتھ کا لکھا ہوا وہ ہستلیکھ یا ہاتھ کا نشان تم اس چھبیلی کو چپکے سے ہاتھوں ہاتھ دے دینا۔
ذرا تصور کیجیے، کوئی اتنا فریفتہ ہے کہ وہ ایک ہوشیار مصور سے اپنا رازدار قاصد بننے کی درخواست کر رہا ہے! شاعر چاہتا ہے کہ یہ فنکار اپنی محبوبہ کو چپ چاپ اپنے ہاتھ سے بنایا ہوا ہاتھ کا نشان پہنچا دے۔ یہ کتنا رقت انگیز اشارہ ہے، ہے نا؟ یہ 'ہاتھ کا نشان' محض ایک تصویر نہیں؛ بلکہ یہ ان کی موجودگی اور وصل کی آرزو کی ایک خاموش، باطنی علامت ہے، جسے انتہائی احتیاط اور رازداری کے ساتھ اس حسین محبوبہ تک پہنچانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
