“Many forms of beasts, birds, and beings she has assumed,Of static and moving kinds; the dancer is dancing.Some small children, and even the greatly renowned,All are present; the dancer is dancing.”
نٹڑی نے جانوروں، پرندوں اور ہر قسم کے ساکن و متحرک جانداروں کے ان گنت روپ دھارن کیے ہیں۔ چھوٹے بچے اور مشہور شخصیات بھی وہاں موجود ہیں، سب اُس نٹڑی کا رقص دیکھ رہے ہیں۔
اوہ، کتنا خوبصورت شعر ہے! یہ ہمیں کائنات کو ایک الہٰی رقاصہ کے لیے ایک عظیم اسٹیج کے طور پر دیکھنے پر اکساتا ہے۔ ذرا تصور کیجیے کہ یہ 'رقاصہ' بے شمار روپ دھارتی ہے – ہر جاندار اور پودے سے لے کر پہاڑوں اور بہتی ندیوں تک، اور ہم سب، چھوٹے بچوں سے لے کر بڑی نامور ہستیوں تک۔ یہ صرف ایک لفظی رقاصہ نہیں ہے، بلکہ اس کائناتی توانائی یا الہٰی کھیل کے لیے ایک خوبصورت استعارہ ہے جو ہر چیز کو تخلیق اور متحرک کرتا ہے جسے ہم دیکھتے ہیں، یہ یاد دلاتے ہوئے کہ تمام وجود ایک مسلسل، متحرک تماشے کا حصہ ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
