“Who is its artisan, a fount of wisdom, O King?Elephants, horses, and swans are there, mynas, parrots, and peacocks;”
اے بادشاہ، اس کا کاریگر کون ہے جو دانشمندی کا خزانہ ہے؟ اس میں ہاتھی، گھوڑے اور ہنس ہیں، ساتھ ہی مینا، طوطے اور مور بھی ہیں۔
یہ دوہا کائنات کے خالق کی حیرت انگیز کاریگری کی تعریف کرتا ہے۔ شاعر بڑے تجسس سے پوچھتا ہے کہ وہ کونسا دانشمند کاریگر ہے جس نے اتنی متنوع اور خوبصورت دنیا تخلیق کی ہے۔ ذرا سوچیں، اس کمال کے کاریگر کی حکمت پر جس نے طاقتور ہاتھی، تیز گھوڑے، خوبصورت ہنس، اور رنگین توتے، مینا و مور جیسے جاندار بنائے ہیں! یہ فطرت کی ناقابل یقین خوبصورتی اور اس کے تخلیق کار کے لیے حیرت کا اظہار ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
