“Clothes of many colors, seeing them love arises, O King... Garlands of virtues like roses, jasmine and champak too pass by;”
اے بادشاہ، جس طرح رنگ برنگے کپڑے دیکھ کر محبت پیدا ہوتی ہے، اسی طرح گلاب اور چمبیلی جیسے فضیلتوں کے گچھے بھی بالآخر گزر جاتے ہیں، جو ظاہری خوبصورتی اور اندرونی خوبیوں دونوں کی عارضی نوعیت کو نمایاں کرتا ہے۔
یہ دوہا بیرونی دکھاوے کے عارضی کشش کو اندرونی خوبیوں کی ان دیکھی خوبصورتی سے جوڑتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ رنگ برنگے لباس دیکھ کر تو فوراً محبت جاگ اٹھتی ہے، مگر خوبیوں کی مالائیں، جیسے گلاب، چنپا اور چمیلی، اکثر یوں ہی گزر جاتی ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم اکثر سطحی چمک دمک کے پیچھے حقیقی خوبیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں، اور سچی خوبصورتی کو پہچاننے کے لیے گہری بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
