“A lakh and a quarter of gold, its worth can be told; Yet it's but a guess, when Odho's shining veil takes hold.”
سوا لاکھ سونے کے سکوں کی قیمت تو گنی جا سکتی ہے۔ مگر جب اوڑھو اپنی چمکتی چنری اوڑھتی ہے، تو اس کی قیمت (یا اس کی خوبصورتی) کا اندازہ لگانا محض ایک قیاس ہی ہوتا ہے۔
یہ خوبصورت دوہا مادی دولت کی قدر اور محبوب کی بے مثال خوبصورتی کے درمیان ایک حسین تضاد پیش کرتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ سوا لاکھ سونے کے سکوں جیسی بڑی دولت کی قیمت تو لگائی جا سکتی ہے، لیکن جب اوڈھو اپنی چمکتی چنری اوڑھتی ہیں، تو ان کا حسن اتنا بے پایاں ہو جاتا ہے کہ اس کی قدر صرف ایک اندازہ بن کر رہ جاتی ہے۔ یہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ حقیقی خوبصورتی اور محبت ہر قسم کی دنیاوی دولت سے بالاتر ہوتی ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
