“The noble mind is pure, though its thoughts the world defy; Speak not among the masses, lest countless troubles multiply.”
سجّن کا دل پاک ہوتا ہے، لیکن ان کے خیالات دنیاوی خیالات کے خلاف ہو سکتے ہیں۔ ایسے خیالات کو عام لوگوں کے درمیان نہیں کہنا چاہیے، تاکہ بے شمار پریشانیاں پیدا نہ ہوں۔
یہ دوہا ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایک نیک دل کے خیالات اکثر دنیا کی عام سوچ سے مختلف ہوتے ہیں۔ ذرا تصور کریں ایک صاف و شفاف چشمہ جو آلودہ زمین سے گزر رہا ہو – اس کی پاکیزگی خوبصورت ہے مگر آسانی سے مٹ میلی ہو سکتی ہے۔ یہاں کی نصیحت یہ ہے کہ ہمیں اپنے گہرے اور خالص خیالات کو کس کے ساتھ بانٹنا ہے، اس میں دانشمندی دکھانی چاہیے۔ کبھی کبھی، اپنی سچائی ایسے لوگوں کے سامنے بیان کرنے سے، جو اسے سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہیں، محض بے وجہ کی پریشانیاں بڑھ سکتی ہیں۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
