“If teachers impart knowledge that students dislike, the students will flee. What honor then will the teacher strike?”
اگر اساتذہ ایسا علم دیں جو طلباء کو پسند نہ آئے تو طلباء بھاگ جائیں گے۔ پھر استاد کو کیسا احترام ملے گا؟
یہ دوہا ہمیں تعلیم کی خوبصورتی اور استاد-شاگرد کے رشتے کی گہرائی سے واقف کراتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ اگر استاد ایسا علم سکھائے جو طالب علموں کو پسند نہ ہو، تو وہ بھاگ جائیں گے، بالکل ایسے ہی جیسے بچے بوریت سے بچنے کے لیے بھاگتے ہیں۔ شاعر یہاں یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ ایک استاد کی اصل عزت اور وقار اسی میں ہے کہ طالب علم خود ان سے سیکھنے کی خواہش رکھیں، نہ کہ زبردستی سے۔ یہ اساتذہ کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ اپنے تدریسی طریقوں کو دلچسپ اور پرکشش بنائیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
