“Behind the veil of your friendship lurk our foes; so deeply have our own turned stranger that only my heart knows.”
آپ کی دوستی کے پردے کے پیچھے ہمارے دشمن چھپے ہیں اور اپنے اس قدر بیگانے ہو چکے ہیں کہ یہ بات صرف میرا دل ہی جانتا ہے۔
یہ شعر منافقت اور اپنوں کی بے وفائی کے درد کو کمال سادگی سے بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ دوستی کے لبادے میں چھپے یہ درپردہ دشمن دراصل اپنے ہی ہیں، مگر اب وہ اس حد تک اجنبی ہو چکے ہیں کہ دل دہل جاتا ہے۔ اس پوشیدہ وار اور دوری کی تلخی کو لفظوں میں سمیٹنا ممکن نہیں، بس دل ہی جانتا ہے کہ اس نے اپنوں کی اس بیگانگی کو کس کرب کے ساتھ سہا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
