“Even with her, Dagh dares to put on airs; who knows what strange whim has possessed his mind!”
داغ اپنے محبوب کے سامنے بھی نخرے اور غرور کا مظاہرہ کرتے ہیں؛ معلوم نہیں ان کے دماغ میں کیا سمائی ہے۔
اس شعر میں داغؔ اپنی مخصوص شوخی اور چٹپٹے انداز سے روایتی عشق کا رنگ ہی بدل دیتے ہیں۔ عشق میں تو عاشق ہمیشہ عجز و نیاز کی تصویر بنا رہتا ہے، مگر یہاں داغؔ خود محبوب کے سامنے غرور اور نخرے دکھانے کی جرات کر رہے ہیں۔ شاعر ایک دھیمی مسکراہٹ اور حیرت کے ساتھ سوچ رہا ہے کہ آخر داغؔ کے دل و دماغ پر ایسی کون سی الٹی دھن سوار ہو گئی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
