“No longer does the arrow leave my heart; what kind of intimacy is this of yours?”
اب جگر سے تیر باہر ہی نہیں نکلتا، یہ بھی بھلا تمہاری کیسی شناسائی یا محبت ہے۔
شاعر نے یہاں محبوب کی نگاہ یا ستم کے تیر کا بڑا درد بھرا نقشہ کھینچا ہے جو جگر کے پار ہو کر اب اسی کا ایک مستقل حصہ بن چکا ہے۔ یہ زخم اب الگ نہیں ہوتا، گویا تکلیف ہی محبوب کا روپ دھار کر سینے میں ہمیشہ کے لیے مقیم ہو گئی ہے۔ عاشق ایک مدہم طنز اور شکوے کے ساتھ پوچھتا ہے کہ یہ کیسی آشنائی اور تعلق ہے جہاں درد اور گھاؤ ہی کو عمر بھر کا ہمدم بنا دیا گیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
