“O God, why does Doomsday not arise? What mystery holds it back? / Right before my eyes, my beloved sits beside my rival.”
اے خدا، قیامت کیوں نہیں برپا ہوتی، آخر ماجرا کیا ہے؟ ہمارے سامنے ہی وہ ہمارے دشمن کے پہلو میں بیٹھے ہیں۔
ذرا اُس عاشق کے دل کی بے بسی اور تڑپ کا اندازہ کیجیے جس کے سامنے اُس کا محبوب اُس کے رقیب کے پہلو میں جلوہ افروز ہو۔ شاعر کے لیے یہ روح فرسا منظر کسی قیامت سے کم نہیں، اس لیے وہ شکوہ کناں ہے کہ جب اس کی دنیا اجڑ چکی ہے تو پھر اصل قیامت آنے میں کیا ماجرا حائل ہے۔ یہاں محبوب کی بے وفائی کا درد اتنا عالمگیر بن جاتا ہے کہ عاشق پوری کائنات کے درہم برہم ہونے کی تمنا کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
