“Should but a single droplet fall, Dagh would set out for Calcutta; yet here in Azimabad we linger, waiting for the monsoon rains.”
اگر بارش کا ایک چھینٹا بھی پڑ جائے تو داغؔ کلکتہ چلے جائیں، مگر ہم یہاں عظیم آباد میں ساون کی بارشوں کے منتظر بیٹھے ہیں۔
اس دلکش شعر میں داغؔ نے سفر کی چاہ اور برسات کے موسم کو بڑے شوخ و رومانوی انداز میں باندھا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کلکتہ جیسے پرکشش شہر روانہ ہونے کے لیے تو بارش کی بس ایک پھوار یا ذرا سا اشارہ ہی کافی ہے، مگر وہ عظیم آباد (پٹنہ) میں پورے ساون کے جوبن کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ شعر دل کی اس خوبصورت بے قراری کی تصویر ہے جہاں انسان بادلوں اور رم جھم کو بہانہ بنا کر اپنی تمناؤں کے سفر پر نکل پڑنا چاہتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
