“How wondrous my state would be, were there union with the beloved; at times my life would be sacrificed, at times my heart surrendered.”
اگر محبوب سے وصال نصیب ہوتا تو میری حالت بڑی عجیب ہوتی؛ کبھی میں اس پر اپنی جان قربان کرتا اور کبھی دل نچھاور کرتا۔
اس شعر میں محبوب کے وصل کا ایک نہایت دلکش اور پرجوش تصور باندھا گیا ہے، جہاں ملن کی خوشی اس قدر بے پناہ ہوگی کہ خود کو سنبھالنا ناممکن ہو جائے گا۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر وہ گھڑی کبھی نصیب ہو جاتی تو بے خودی کا یہ عالم ہوتا کہ کبھی دل نچھاور کرنے کی چاہ ہوتی تو کبھی جان صدقے کرنے کی تمنا جاگتی۔ یہ عشق میں خود سپردگی کی وہ انتہا ہے جہاں محبوب کے قدموں میں اپنا سب کچھ وار دینا ہی سب سے بڑی سعادت معلوم ہوتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
