“Beholding the countenance of Dagh, they remarked: / Who could ever bring their heart to love such a face?”
داغ کا چہرہ دیکھ کر وہ بولے کہ ایسی صورت سے بھلا کون محبت کرے گا؟
داغؔ دہلوی کا یہ شعر ان کی مخصوص شوخی، بے ساختگی اور خود پر مسکرانے کے خوبصورت انداز کا آئینہ دار ہے۔ محبوب ان کے چہرے کی طرف دیکھ کر بے باکی سے پوچھتا ہے کہ بھلا اس روپ سے کون دل لگائے گا، مگر اس بظاہر کڑوے سچ میں دکھ کے بجائے ایک میٹھی چھیڑ چھاڑ کا احساس ہے۔ یہاں روایتی رنج و الم کے برعکس محبت کی حقیقت کو ہلکے پھلکے اور ظریفانہ انداز میں برتا گیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
