ظفرؔ وہ بوسہ تو کیا دے گا پر کوئی دشنام جو تم کو سننا ہو اس شوخ دلستاں سے سنو

“A kiss is far too much to hope for, Zafar; yet if abuse is what you wish to hear, go hear it from that playful thief of hearts.”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

ظفر، وہ تم کو بوسہ تو کیا دے گا، البتہ اگر کوئی گالی یا برا بھلا سننا ہو تو اس دل چرانے والے شوخ محبوب سے سن لو۔

تشریح

ظفرؔ یہاں عاشقی کی ایک دلکش اور شوخ حقیقت مسکرا کر بیان کر رہے ہیں۔ دل چرانے والے اس چنچل محبوب سے بوسے کی تمنا کرنا تو بے سود ہے، البتہ اس کی ترش روئی اور گالیاں سننا مقصود ہو تو شوق سے جائیے۔ عشق کی دنیا میں محبوب کے لبوں سے نکلی ہوئی جھڑکیاں اور دشنام بھی عاشق کے لیے کسی شیریں نعمت سے کم نہیں ہوتیں کیونکہ اس بہانے وہ مخاطب تو ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.