“Inflict a thousand torments, but why speak of another, my love? Hear complaints against yourself from this half-dead soul of yours.”
اے محبوب، تم مجھ پر ہزار ستم کرو لیکن کسی اور کا ذکر کیوں کرتے ہو؟ اپنے خلاف شکایتیں تم اپنے اس نیم جاں عاشق سے ہی سنو۔
عاشق اپنے محبوب سے کہتا ہے کہ تم مجھ پر جتنے چاہو ستم ڈھا لو مجھے سب قبول ہے، مگر گفتگو میں کسی غیر کا تذکرہ دل پر تیر کی طرح لگتا ہے۔ محبت کا یہ درد اور جفا عاشق کے لیے ایک ایسا نجی تعلق ہے جس میں کسی تیسرے کی گنجائش نہیں ہو سکتی۔ وہ کمالِ درد مندی سے التجا کرتا ہے کہ اگر تمہیں اپنے ستم کا شکوہ سننا ہی ہے، تو اپنے اسی ادھ موئے دیوانے سے سنو جس کی جان تمام تر رنجشوں کے باوجود صرف تم سے وابستہ ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
