“Write yet another ghazal, Zafar, and turn the rhyme anew; for the river of your poetic muse is now surging in full swell.”
اے ظفرؔ، تو قافیہ بدل کر ایک اور غزل کہہ، کیونکہ اب تیری طبیعت کے دریا میں موجیں اٹھ رہی ہیں۔
اس شعر میں ظفرؔ خود اپنے آپ کو داد دیتے ہوئے مزید غزلیں کہنے پر اکسا رہے ہیں، کیونکہ ان کی تخلیقی طبع اس وقت پورے جوش پر ہے۔ انہوں نے اپنی شاعرانہ طبیعت کو ایک ایسے دریا سے تشبیہ دی ہے جس میں الہام اور جذبات کی موجیں پوری روانی سے امڈ رہی ہیں۔ جب دل پر آمد کا ایسا پرشور سیلاب طاری ہو، تو شاعر کا فرض بنتا ہے کہ وہ قافیہ بدل بدل کر بس لکھتا ہی چلا جائے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
