“If in this weeping, O Zafar, there is no power to move, what is it then, if not making oneself the laughingstock of the world?”
اے ظفر، اگر اس رونے میں کوئی اثر نہیں ہے تو پھر یہ دنیا میں جگ ہنسائی کے سوا اور کیا ہے۔
ظفرؔ اس شعر میں بے اثر آنسوؤں کے دلی صدمے کو بڑی خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب دل کے نوحے اور گریہ و زاری سے نہ محبوب کا دل پگھلے اور نہ تقدیر بدلے، تو ایسی بے بسی زمانے کے لیے محض ایک تماشا بن کر رہ جاتی ہے۔ یہ خود شناسی کا وہ تلخ لمحہ ہے جہاں انسان کو احساس ہوتا ہے کہ بے قدروں کے آگے اپنے سچے درد کی نمائش سے ہمدردی نہیں، بلکہ صرف جگ ہنسائی ہاتھ آتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
