“Known throughout the whole world as a distant stranger, O Zafar; / Yet God alone knows how that beloved became intimate with you.”
اے ظفر! وہ تو پوری دنیا میں کسی سے بھی آشنائی نہ رکھنے کی وجہ سے مشہور ہے، لیکن خدا ہی جانے کہ وہ تم سے کیسے واقف اور مانوس ہو گیا۔
اس شعر میں ظفرؔ بڑی دلکش حیرت اور انکساری کا اظہار کر رہے ہیں۔ محبوب تو ساری دنیا میں اپنی بے رخی اور بے گانگی کے لیے مشہور ہے، جس کے دل تک پہنچنا کسی کے بس میں نہ تھا۔ مگر خدا ہی جانتا ہے کہ وہ کیسا معجزہ تھا کہ وہی سنگ دل اور نا آشنا شخص شاعر کا اتنا قریبی شناسا بن گیا۔ یہ شعر اس خوش نصیبی کا جشن ہے جہاں محبت ناممکن کو بھی ممکن بنا دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
