“Beneath your pacing tread lay spread our wonder-stricken eyes; / How any footprint formed upon them fills us with surprise.”
ہماری حیران آنکھیں آپ کے قدموں کے نیچے تھیں، ہمیں اس بات پر تعجب ہے کہ ان پر پاؤں کا نشان کیسے بن گیا۔
یہاں عاشق کی وارفتگی کا عالم دیکھیے کہ محبوب کے قدموں تلے مٹی نہیں بلکہ اس کی حیران اور پتھرائی ہوئی آنکھیں بچھی ہوئی تھیں۔ شاعر کو اس بات پر حیرت ہے کہ آنکھ جیسی نازک اور آئینے کی طرح بے نشان شے پر نقشِ پا کیسے ابھر آیا! یہ شعر دراصل مکمل سپردگی اور اس گہرے روحانی اثر کو ظاہر کرتا ہے جو محبوب کا گزرنا عاشق کے دل و جاں پر چھوڑ جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
