پیار سے کر کے حمائل غیر کی گردن میں ہاتھ مارتے تیغ ستم سے مجھ کو گردن آپ ہیں

“Lovingly draping your arm around the rival's neck, / You strike me down yourself with the cruel sword of torment.”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

آپ محبت سے غیر کے گلے میں ہاتھ ڈالتے ہیں اور ستم کی تلوار سے خود ہی میری گردن کاٹ دیتے ہیں۔

تشریح

اس شعر میں رقیب کے ساتھ محبوب کی محبت بھری قربت عاشق کے لیے جان لیوا عذاب بن کر سامنے آتی ہے۔ محبوب جس ناز سے غیر کی گردن میں بانہیں حمائل کرتا ہے، وہی دلکش انداز عاشق کے لیے ستم کی تلوار بن کر اس کا گلا کاٹ دیتا ہے۔ یہاں 'گردن مارنا' یعنی قتل کرنے کا محاورہ اتنی خوبصورتی سے باندھا گیا ہے کہ عاشق کو مارنے کے لیے کسی خنجر کی نہیں، بس محبوب کی اسی بے رخی کی ضرورت ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.