بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں سنے ہے کون مصیبت کہوں تو کس سے کہوں

“The longing that fills my heart, to whom should I confess? / Who ever listens to affliction, to whom should I confess?”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

میرے دل میں جو حسرت بھری ہے، وہ میں کس سے کہوں؟ یہاں کسی کی مصیبت کون سنتا ہے، اس لیے میں اپنا دکھ کسے سناؤں؟

تشریح

یہ شعر تنہائی اور بے بسی کی ایک ایسی دردناک تصویر پیش کرتا ہے جہاں دل اَن کہی حسرتوں اور دکھوں سے لبریز ہے، مگر کوئی سچا ہمدرد میسر نہیں۔ 'کہوں تو کس سے کہوں' کی تکرار دراصل ایک تھکی ہوئی آہ ہے جو زمانے کی بے رخی اور لاپروائی پر سوال اٹھاتی ہے۔ اس میں اس خاموش گھٹن کی کیفیت ہے جب انسان کا دل بوجھ سے پھٹ رہا ہو لیکن غم بانٹنے والا کوئی رفیق موجود نہ ہو۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.