“In youth, I kept company with the drunkards;In old age, I served the fakirs.”
جوانی میں، میں نے شرابیوں کی صحبت اختیار کی ہے، اور بڑھاپے میں میں نے فقیروں کی خدمت کی ہے۔
یہ شعر زندگی کے دو مختلف مراحل کو کتنی خوبصورتی سے بیان کرتا ہے! جوانی میں، شاعر نے "شرابیوں" کی صحبت میں وقت گزارا، جو شاید دنیاوی رنگینیوں، بے فکری اور روایتی بندھنوں سے آزادی کو ظاہر کرتی ہے۔ لیکن بڑھاپے میں، انہوں نے "فقیروں" کی خدمت کی، جو زندگی کے روحانی پہلو، عاجزی اور دنیا سے بے رخی کی طرف جھکاؤ کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی روح کی تصویر پیش کرتا ہے جس نے دنیا کے نشے اور روحانی سکون دونوں کو جیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
