وہ الفت کا ہی بَدلاو ہے، اور یہ بھی کہاں سے! کہ ہو انہیں نفرت میرے نام کی جانب۔
“Is that a mere transformation of love? How can that be! That they hold contempt towards my name.”
— امرت گھائل
معنی
شاعر اس بات پر حیرانی اور عدم یقین کا اظہار کرتا ہے کہ ان کے نام کی طرف جو نفرت ہے، کیا وہ محبت کا ہی بدلاو ہے؟ یہ قبول کرنا مشکل ہے کہ محبت اتنی شدید نفرت میں کیسے بدل سکتی ہے۔
تشریح
یہ شعر محبت کے ایک عجیب اور تلخ حقیقت کو بیان کرتا ہے۔ شاعر پوچھ رہے ہیں کہ وہ الفت جو کبھی محبت تھی، وہ نفرت میں کیسے بدل گئی؟ یہ دل کے ٹوٹنے کا وہ منظر ہے جہاں پیار بھی طنز بن کر آ جاتا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
