“Begone, O heart forever brooding on the end— / You ruined all the joy that life had to spend.”
اے انجام کی فکر کرنے والے دل، تو مجھ سے دور ہو جا، کیونکہ تو نے مستقبل کے اندیشوں میں زندگی کا سارا لطف برباد کر دیا۔
اس شعر میں شاعر اپنے ہی دل کو جھڑکتے ہوئے شکوہ کر رہا ہے جو ہر دم انجام اور مستقبل کی فکر میں گھلتا رہتا ہے۔ ’مآل اندیش‘ دل نے انجام کے اندیشوں اور نفع نقصان کے حساب کتاب میں الجھ کر زندگی کے حال کا سارا رس اور لطف چھین لیا ہے۔ یہ ایک دلنشین نصیحت ہے کہ اگر انسان ہر لمحے انجام کے خوف میں جئے، تو وہ جیتے جی زندگی کی تمام تر رعنائیوں اور مسرتوں سے محروم رہ جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
