“Lay bare the secret of the inner realm, O Lord, / For those bound to outward forms torment me sorely now.”
اے پروردگار، باطن کے راز کو عیاں کر دے، کیونکہ ظاہر پرستی میں مبتلا لوگ مجھے بہت ستانے لگے ہیں۔
اس شعر میں باطن کی پاکیزگی اور ظاہر کے کھوکھلے پن کے درمیان کی کشمکش کو خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ شاعر ان نام نہاد پارساؤں اور رسم پرستوں سے سخت بیزار ہے جو محض ظاہری احکام کی بنیاد پر دوسروں کو پرکھتے اور طعنے دیتے ہیں۔ وہ عاجز آ کر خدا کے حضور التجا کرتا ہے کہ دلوں کا چھپا ہوا راز فاش ہو جائے، تاکہ دنیا جان سکے کہ اصل عبادت دکھاوے میں نہیں بلکہ روح کی سچائی میں ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
