“I feel an urge to seek the Tavern Elder's leave, / For caravans once more set forth toward the sacred shrine.”
میرے دل میں یہ خواہش ہے کہ میں پیرِ مغاں کی اجازت لے لوں، کیونکہ قافلے ایک بار پھر حرم کی طرف روانہ ہونے لگے ہیں۔
اس شعر میں ظاہری شریعت اور باطنی تصوف کے درمیان ایک دلکش کیفیت کو بیان کیا گیا ہے۔ جب حاجیوں کے قافلے کعبہ کی زیارت کے لیے نکل رہے ہیں تو شاعر کے دل میں بھی حرم جانے کی تڑپ پیدا ہوتی ہے، لیکن وہ پہلے مے خانے کے مرشد کی اجازت کو لازمی سمجھتا ہے۔ یہ خیال ظاہر کرتا ہے کہ صوفیانہ روایت میں دل کی بندگی اور عشق کے مرشد کی رضا ظاہری عبادتوں سے کہیں زیادہ مقدم ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
