“The saint speaks the truth untold,The fool, in turn, does it scold.”
جب ایک بزرگ سچ کہتا ہے، تو ایک احمق اس کے برعکس اس کی مذمت کرتا ہے۔
یہ دوہا علم اور جہالت کے لازوال تضاد کو کتنی خوبصورتی سے بیان کرتا ہے! اس میں کہا گیا ہے کہ جہاں ایک نیک شخص فطری طور پر گہری سچائیوں کا اظہار کرتا ہے، جو اکثر سادہ مگر گہرے معنی رکھتی ہیں، وہیں ایک احمق یا جاہل شخص انہیں قبول کرنے کے بجائے الٹا ان کی مذمت کرتا ہے یا ان کا مذاق اڑاتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سچ کو ہمیشہ قبول نہیں کیا جاتا، خاص طور پر ان لوگوں کی طرف سے جو اسے دیکھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ یہ دانشمندی کے سامنے تنگ نظری کی مزاحمت کو اجاگر کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
