“As per its capacity, the soul awakens,And in bondage, it is always taken.”
روح اپنی صلاحیت کے مطابق بیدار ہوتی ہے، لیکن ہمیشہ بندھن میں رہتی ہے۔
یہ دوہا روح کے گہرے سفر کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ کہتا ہے کہ ہماری روح اپنی 'صلاحیت' کے مطابق ہی بیدار ہوتی ہے یا سمجھ پاتی ہے۔ لیکن اس بیداری کے باوجود، وہ ہمیشہ کسی نہ کسی بندھن میں جکڑی رہتی ہے – چاہے وہ دنیاوی خواہشات ہوں، محبت ہو، یا کرموں کا چکر۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بھلے ہی ہم علم حاصل کریں، ہم اکثر ان چیزوں سے بندھے رہتے ہیں جو ہماری حقیقی آزادی کو محدود کرتی ہیں، اور یہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ آخر ہمیں کیا چیز باندھے رکھتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
