“Then, O Akho, the soul that yearns to be free,That which it knows, let that person see.”
تب، اے اکھا، نجات کا خواہشمند شخص، جو کچھ اس کا من جانتا ہے، اسے جان لے۔
یہاں سنت اکھو اس "ممکشُو من" کو مخاطب کر رہے ہیں، یعنی اس روح کو جو آزادی کی گہری خواہش رکھتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ نجات کا راستہ باہر سے نیا علم حاصل کرنا نہیں، بلکہ اس باطنی سچائی کو گہرائی سے سمجھنا اور محسوس کرنا ہے جسے ہمارا اندرونی نفس پہلے ہی جانتا یا محسوس کرتا ہے۔ یہ اپنی اندرونی حکمت پر بھروسہ کرنے اور اس سچ کو واقعی 'دیکھنے' کی دعوت ہے جسے آزادی کا طالب دل پہلے ہی سمجھ چکا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
