“The foolish mind asks of freedom and of chains,When searched within, Govind there remains.”
نادان ذہن آزادی اور بندھن کے بارے میں پوچھتا ہے، جبکہ اپنے اندر تلاش کرنے پر گووند (خدا) وہیں ملتا ہے۔
یہ شعر کتنی خوبصورتی سے سمجھاتا ہے کہ ہمارا "نادان ذہن" اکثر آزادی اور بندھن جیسے بڑے سوالوں میں الجھا رہتا ہے، باہر جواب ڈھونڈتا ہے۔ لیکن اس میں گہرا پیغام یہ ہے کہ جب ہم اپنے اندر جھانکتے ہیں، تو 'گووند' – وہ الہیٰ موجودگی، وہ پرم ستیا – پہلے ہی ہمارے اندر موجود ملتا ہے، ان دوئیوں سے بے نیاز۔ یہ ایک پیاری سی یاد دہانی ہے کہ سچی آزادی کچھ حاصل کرنے کی چیز نہیں، بلکہ وہ پہچان ہے کہ یہ پہلے ہی ہماری ہستی کا حصہ ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
