“Though feet grew weary from countless pilgrimages' strain,Yet to Hari's refuge, they could not attain.”
بار بار تیرتھ یاترا کرنے سے پاؤں تھک گئے، پھر بھی وہ ہری کی پناہ میں نہیں پہنچ پائے۔
یہ دوہا روحانی تلاش کی ایک گہری سچائی کو بڑی خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ 'تیرتھ پھر پھر تھکے چرن' کی تصویر ان انتھک کوششوں کو ظاہر کرتی ہے جو لوگ ظاہری رسومات اور سفروں میں لگاتے ہیں، یہ سوچ کر کہ اس سے انہیں خدا سے جڑنے میں مدد ملے گی۔ لیکن 'توئے نہ پہنچے ہری کے شرن' کا تکلیف دہ احساس بتاتا ہے کہ حقیقی روحانی سکون صرف جسمانی زیارتوں یا ظاہری اعمال میں نہیں ملتا، بلکہ باطنی عقیدت اور مکمل سپردگی میں ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خدا تک پہنچنے کا راستہ اکثر ہمارے اپنے اندر ہی ہوتا ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
