“That form, in its formlessness, becomes non-dual,A trace of duality-non-duality then vanishes.”
جب صورت اپنی بے صورتی میں اَدْوَیت ہو جاتی ہے، تب دوئی اور اَدْوَیت کا ذرا سا بھی نشان مٹ جاتا ہے۔
یہ خوبصورت دوہا ہمیں ایک گہرے روحانی سچ پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ جب ہم کسی چیز کے جوہر کو، اس کی باطنی بے شکلی کو واقعی سمجھ جاتے ہیں، تو وہ عدم دوئی کی حالت میں ضم ہو جاتا ہے، جہاں تمام امتیازات مٹ جاتے ہیں۔ ذرا سوچیں، ایک لہر کو یہ احساس ہو کہ وہ صرف پانی ہے، الگ نہیں۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ اس حتمی مرحلے پر، دوئی اور عدم دوئی کے درمیان کی فکری کشمکش بھی مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے، صرف خالص، غیر منقسم حقیقت ہی باقی رہ جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
