“All eyes have now gone blind, it seems,Even guru's conduct lost its gleams.”
سب کی آنکھیں پھوٹ گئیں، گرو کا کردار ہی کانا ہو گیا۔
یہ شعر ایک اداس تصویر پیش کرتا ہے، جیسے شاعر کہہ رہا ہو کہ معاشرہ اپنی راہ مکمل طور پر کھو چکا ہے۔ جب یہ کہتا ہے 'سب کی آنکھیں پھوٹ گئی ہیں'، تو اس کا مطلب صرف جسمانی بصارت نہیں، بلکہ لوگوں کی سچائی، انصاف یا عام فہم کو دیکھنے کی صلاحیت کا فقدان ہے۔ اور سب سے زیادہ دل توڑنے والی بات یہ ہے کہ 'گرو کا کردار بھی اپنی چمک کھو چکا ہے' – یہ ظاہر کرتا ہے کہ جنہیں ہم اخلاقی رہنمائی اور حکمت کے لیے دیکھتے ہیں، وہ بھی کوتاہی کر گئے ہیں، جس سے ہر کوئی کسی رہنما روشنی کے بغیر بھٹک رہا ہے۔ یہ واقعی آپ کو ایسے جہان کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتا ہے جہاں ایمانداری اور وضاحت کی کمی ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
