“By performing actions, nothing comes forth; Akha, by mere thought, the ultimate truth is not found.”
عمل کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا؛ اکھا، محض سوچنے سے حتمی سچائی نہیں ملتی۔
اکھا بھگت کا یہ دوہا ہمیں سچائی اور زندگی کے بارے میں ایک گہرا سبق دیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ صرف عمل کرتے رہنے سے ہمیں سب کچھ نہیں مل جاتا، یعنی صرف کام میں لگے رہنے سے ہم حقیقی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتے۔ اور دوسری طرف، محض سوچتے رہنے یا فلسفہ بگھارنے سے بھی ہمیں پرم سچائی نہیں ملتی۔ اکھا ہمیں بتاتے ہیں کہ حقیقی بصیرت ان دونوں حدود سے بالا تر ہے، جو عمل اور فکر کے درمیان توازن میں پوشیدہ ہے، یا شاید ان دونوں سے بھی ماورا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
