“Akha ponders, Brahman is the essence true,And karma's nature, inherent, we must view.”
اکھا غور کرتا ہے کہ برہما ہی اصل جوہر ہے؛ اور کرم کو فطری سمجھنا چاہیے۔
یہاں اکھا جی ہمیں اپنی سادہ لیکن گہری سوچ کے ساتھ دو عظیم سچائیوں پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ جیسے ہم برہمن، اس حتمی اور ہر چیز میں موجود حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، بالکل اسی طرح ہمیں کرما کی فطری نوعیت کو بھی گہرائی سے جاننا چاہیے۔ یہ صرف اعمال اور ان کے رد عمل کا معاملہ نہیں، بلکہ کرما کو ہمارے وجود کا ایک اندرونی حصہ ماننا ہے، جو ہماری ہستی کی بناوٹ میں گہرائی سے گندھا ہوا ہے۔ یہ اندر جھانکنے، کائناتی جوہر اور ہمارے انفرادی اعمال کے درمیان گہرے تعلق کو سمجھنے کی ایک پکار ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
