“They grew thick within their knowing, spilling wisdom, only gruel remains;”
وہ اپنے علم میں متکبر اور ضدی ہو گئے، اپنی دانشمندی کو بکھیر دیا، اور بالآخر صرف بے قدر جوہر ہی باقی رہ گیا۔
یہ دوہا کتنی خوبصورت اور گہری بات کہتا ہے! یہاں شاعر ان لوگوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں جو اپنے علم کے فخر میں اتنے پھول جاتے ہیں کہ وہ اپنی اصلی سمجھ اور بصیرت کو ہی کھو بیٹھتے ہیں۔ ذرا سوچئے، جب آپ اپنی دانشمندی کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں کہ اس کا جوہر ہی بہہ کر بکھر جائے، اور آخر میں صرف پتلا سا گھول یا 'رابڑ' ہی بچے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سچا علم عاجزی اور سادگی میں ہی پنپتا ہے، غرور میں نہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
