“Such is the teaching of the knower, The guru of the five is all outward guise.”
دانا کا ایسا ارشاد ہے کہ پانچ (حواس یا عناصر) کا گرو محض ایک ظاہری ڈھونگ ہے۔
یہ دوہا ہمیں سکھاتا ہے کہ ایک باطن شناس شخص ہمیں ظاہری چیزوں سے پرے دیکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ اشارہ کرتا ہے کہ ہماری حسیات یا ہمارے مادی وجود کو جو چیزیں قابو کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں، وہ سب صرف ایک عارضی "نمائش" یا بیرونی روپ ہیں۔ اس کا گہرا مطلب یہ ہے کہ ہماری حقیقی پہچان ان فانی ظاہری دکھاووں سے کہیں زیادہ ہے، اور ہمیں ان کے پیچھے کی سچائی کو تلاش کرنا چاہیے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
