“Without true knowledge, such means are they,Akha says, no give and take holds sway.”
علم کے بغیر ایسے ذرائع بے کار ہیں، اکھا کہتے ہیں کہ ان میں کوئی حقیقی لین دین (یا فائدہ) ممکن نہیں ہے۔
یہ دلکش دوہا ہمیں اکھا جی کی گہری بات سمجھاتا ہے کہ سچے گیان کے بغیر کوئی بھی ساَدھن یا عمل بیکار ہے۔ ذرا سوچیں، اگر آپ کے پاس صرف کھانا پکانے کا سامان ہو، لیکن پتہ ہی نہ ہو کہ اسے کیسے استعمال کرنا ہے، تو کچھ بھی مزیدار نہیں بنے گا! اکھا کہتے ہیں کہ سچی سمجھ کے بغیر، روحانی راستے پر کوئی اصلی لین دین یا ترقی نہیں ہوتی۔ یہ صرف ایک دکھاوا رہ جاتا ہے، اس لیے گیان کو ترجیح دینا کتنا اہم ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
