“A ship of a hare's horn was made,And it sailed into a mirage;”
خرگوش کے سینگ کا جہاز بنایا گیا، اور وہ سراب میں تیر گیا۔
ارے واہ، یہ شعر تو ناممکن باتوں کی کیسی خوبصورت تصویر کھینچتا ہے! ذرا سوچیں، ایک خرگوش کے سینگ سے بنی کشتی – خرگوش کے تو سینگ ہوتے ہی نہیں! یہ ہمیں فوراً بتا دیتا ہے کہ بات کسی ایسی چیز کی ہو رہی ہے جو مکمل طور پر تصوراتی ہے، جو بن ہی نہیں سکتی۔ اور پھر، یہ خیالی کشتی ایک سراب میں جا کر تیرتی ہے، جو ریگستان میں پانی کا ایک دھوکہ ہوتا ہے؛ یہ اس بات کو دوگنا کر دیتا ہے کہ ہم کبھی کبھی اپنی امیدیں اور کوششیں ایسی چیزوں میں لگاتے ہیں جو حقیقت میں موجود نہیں ہوتیں، اور آخر کار ہمیں صرف وہم میں ہی ڈوبنا پڑتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
