“Akha, how can the body shed its pain,That daily reads the stories of the dead again?”
اخا پوچھتے ہیں، وہ بدن اپنی تکلیف کیسے دور کر سکتا ہے جو روزانہ مردوں کی کہانیاں پڑھتا رہتا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کے دکھوں یا ماضی پر توجہ مرکوز کرنے سے اپنی پریشانیوں کا خاتمہ نہیں ہوتا۔
یہ دوہا اکھا بھگت کی گہری سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ ہمارا جسم یا وجود اپنے دکھوں سے کیسے نجات پا سکتا ہے، جب وہ روزانہ 'مردوں کی کہانیوں' میں مگن رہتا ہے؟ یہاں 'مردوں کی کہانیاں' لفظی معنی میں نہیں ہیں، بلکہ یہ ماضی کے غموں، پچھتاووں یا زندگی کے ان فانی، مادی پہلوؤں کی خوبصورت علامت ہے جو بالآخر روحانی خالی پن کی طرف لے جاتے ہیں۔ یہ ایک نرم یاد دہانی ہے کہ ہمارا اندرونی سکون اس بات پر منحصر ہے کہ ہم اپنے ذہن اور دل کو کیا غذا دیتے ہیں۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
