“Food, drink, and all worldly pleasures, To the truth-seer, are naught but diseases.”
تتودرشی (حقیقت جاننے والے) کے لیے، کھانا پینا اور تمام دنیاوی لذتیں محض بیماریاں ہیں۔
یہ دوہا کتنی گہری بات کہتا ہے، ہے نا؟ یہ ہمیں سمجھاتا ہے کہ جسے 'تتوَدرشی' کہا گیا ہے، یعنی جس نے سچ کو جان لیا ہے، اس کے لیے کھانے پینے اور دنیا کے تمام عیش و عشرت لطف نہیں رہ جاتے. بلکہ، یہ سب انہیں 'بیماری' کی طرح لگتے ہیں، جو ہماری روح کو باندھتے ہیں اور اسے اصلی خوشی سے دور رکھتے ہیں. یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ سچا سکون ظاہری خوشیوں میں نہیں، بلکہ اندرونی سمجھ میں ہوتا ہے.
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
