“That breeze has turned, that season passed, those paths and people are no more; What talk of strolls or pleasure now, I step no longer past my door.”
وہ ہوا بدل گئی ہے، وہ دور گزر چکا ہے، اور اب نہ وہ راستے رہے نہ وہ لوگ۔ تفریح اور سیر و تفریح کی تو بات ہی کیا، میں نے اب گھر سے باہر نکلنا بھی چھوڑ دیا ہے۔
یہ شعر وقت کے بدلتے ہوئے تیور اور بچھڑے ہوئے پیاروں کے گہرے دکھ کی دل کو چھو لینے والی داستان ہے۔ شاعر دیکھتا ہے کہ وہ خوشگوار زمانہ، مانوس راستے اور مخلص احباب سب ماضی کی دھند میں کھو چکے ہیں۔ جب دنیا سے وہی لوگ رخصت ہو گئے جن سے زندگی میں رونق تھی، تو سیر و تفریح کا ذوق بھی ختم ہو گیا اور اسی اداسی نے انسان کو اپنے گھر کے کونے میں تنہا سمیٹ دیا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
