کیوں کبر و غرور اس دور پہ ہے کیوں دوست فلک کو سمجھا ہے گردش سے یہ اپنی باز آیا یا رنگ بدلنا چھوڑ دیا

“Why pride yourself upon this age, why take the heavens for a friend? / Has fate ceased its revolving wheel, or stopped changing its fickle hues?”

— اکبر الہ آبادی
معنی

تمہیں اس زمانے پر اتنا غرور کیوں ہے اور تم نے آسمان (قسمت) کو اپنا دوست کیوں سمجھ لیا ہے؟ کیا وہ گردش کرنے سے باز آ گیا ہے یا اس نے رنگ بدلنا چھوڑ دیا ہے؟

تشریح

اس شعر میں شاعر انسان کو عارضی خوشحالی اور اچھے وقت پر غرور کرنے سے بڑی خوبصورتی سے خبردار کر رہا ہے۔ آسمان یعنی گردشِ ایام کی تو فطرت ہی بے وفا اور بدلتی رہنے والی ہے، پھر اسے اپنا سچا دوست سمجھ بیٹھنا کیسی سادگی ہے؟ تقدیر کا پہیہ کبھی ایک جگہ نہیں رکتا، اس لیے یہ وہم پالنا فضول ہے کہ وقت نے اپنے رنگ بدلنا چھوڑ دیے ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.