“The Sheikh speaks truly, O Akbar: submission to the Divine is indeed a duty; / Yet to renounce both wine and the beloved—that is a venerable greatness of his own.”
اے اکبر، شیخ سچ کہتے ہیں کہ خدا کی اطاعت فرض اور لازمی ہے۔ مگر شراب اور محبوب دونوں کو چھوڑ دینا، یہ محض ان ہی کا بڑاپن اور کمال ہے۔
اکبر الہٰ آبادی نے اس شعر میں اپنے مخصوص ظریفانہ انداز میں شیخ پر ایک نہایت لطیف اور میٹھی چوٹ کی ہے۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ خدا کی بندگی تو ہر انسان پر فرض ہے اور اس معاملے میں شیخ صاحب بالکل درست فرما رہے ہیں۔ لیکن مے اور محبوب دونوں سے کنارہ کش ہو جانا صرف شیخ صاحب کا اپنا کمال اور بزرگی ہو سکتی ہے، کسی زندہ دل عاشق کے بس کا روگ نہیں کہ وہ حسن اور سرور سے منہ موڑ لے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
