“Such loud clamor for learning, such din of cultured grace; if no blessings ever flourish, 'tis foul intent at the base.”
تعلیم اور تہذیب کا اس قدر شور و غل ہے، لیکن اگر اس کے باوجود کام میں برکت نہیں ہو رہی تو یہ دراصل نیت کی خرابی کی وجہ سے ہے۔
شاعر یہاں معاشرے کے کھوکھلے پن پر بڑی خوبصورتی سے طنز کر رہے ہیں کہ ہر سو تعلیم اور تہذیب کا چرچا تو بہت ہے، مگر زندگیوں میں سکون اور برکت ناپید ہے۔ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ ہمارے دلوں کا خلوص ختم ہو چکا ہے اور نیتوں میں کھوٹ آ گیا ہے۔ جب تک باطن سنور نہ جائے اور نیت نیک نہ ہو، تب تک ظاہری علم اور شائستگی بھی بے اثر رہتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
